باطل نے راہِ حق سے، ہم کو ہٹا دیا ہے
نفس و ہوس نے رب کا، ڈر ہی مٹا دیا ہے
اپنوں میں چال چل کر، آپس میں خوب لڑکر
امت کو ٹکڑے ٹکڑے، کر کے بَٹا دیا ہے
اس دورِ پرفتن میں، ہے اختلاط اکثر
فیشن نے بھی حیا کا، آنچل اٹھا دیا ہے
ڈگری تو مل گئی ہے، کردار  مل نہ پایا
معیارِ علم و فن کو، اتنا گھٹا دیا ہے
غیبت سے اپنی ہم نے، برباد نیکیاں کیں
بغض و حسد میں اپنا، رِشتہ کٹا دیا ہے  
رزق حلال کا ہم، نے راستہ بھلا کر
سود و ربا کا پیشہ، دل میں بٹھا دیا ہے
اخلاص جو عمل کی ، جان و اساس تھا کل
اب تو ریا نے آکر، اس کو چٹا دیا ہے
اے کاش اے منور، سمجھے یہ بات دل سے
دنیا کے بدلے دیں کو، کتنا لُٹا دیا ہے

0
13