ہم نے سچ کی اس قدر قیمت چکائی ہے کہ بس
پھر اسی سچ سے نظر ایسی چرائی ہے کہ بس
علم کی محفل میں سب دانائی کے دعوے کیے
اک سوال آیا تو سب نے چپ لگائی ہے کہ بس
حق کی خاطر بولنے کا حوصلہ رکھتے تھے ہم
وقت آیا تو زباں یوں لڑکھڑائی ہے کہ بس
عمر بھر آزادیوں کے گیت گاتے ہی رہے
آخرش ہم کو غلامی راس آئی ہے کہ بس
عمر بھر خودداریوں کا درس ہم دیتے رہے
اہلِ زر کے سامنے گردن جھکائی ہے کہ بس
اپنے چہرے پر سجائی پارسائی اس طرح
اپنی ہر لغزش زمانے سے چھپائی ہے کہ بس
ہم نے اوروں کی خطاؤں کو اچھالا عمر بھر
اپنی خاطر اک کہانی پھر بنائی ہے کہ بس
عمر بھر شاہدؔ زمانے کو ہی سمجھاتے رہے
اپنی سچائی کی یوں قیمت گھٹائی ہے کہ بس

0
3