| ایسا نہیں ہے کوئی کہ آ کر ٹھہر گیا |
| جو بھی یہاں پہ آیا ہے کر کے سفر گیا |
| منزل قریب آنے پہ اچھا لگا مگر |
| منزل قریب آئی تو لطف سفر گیا |
| کردار اس کا آج بھی زندہ ہے دوستوں |
| اس شخص کو گئے تو زمانہ گزر گیا |
| دولت بھی تخت و تاج بھی چھوٹا غرور بھی |
| خالی ہی ہاتھ دنیا سے ہے تاجور گیا |
| یعنی حرام کھاتے ہیں یہ شیخ و برہمن |
| یوں ہی نہیں دعاؤں سے ان کی اثر گیا |
| صحرا کی خاک چھانی ہے میں نے تمام عمر |
| تم کو لگا کہ یوں ہی مقدر سنور گیا |
| منصف کو چاہیے بھلا اب کون سا ثبوت |
| مقتول بولتا ہوا قاتل کے گھر گیا |
| وہ بد دعائیں دے گا بھلا آپ کو شبیر |
| جو دشمنوں کے ساتھ بھی احسان کر گیا |
معلومات