میں نے مطرب سے کہا ساز بجاتا جاۓ
اپنی دھن پہ مرے شعروں کو سجاتا جاۓ
بھولنے والوں سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی
وقت کا طوفاں مرے نقش مٹاتا جاۓ
خون کے آنسو رلا کر وہ گیا ہے ظالم
گر سنائ ہے سزا جرم بتاتا جاۓ
روکنے کو تو اسے روک بھی دیتا لیکن
پھر یہ سوجھی کہ جو جاتا ہے تو جاتا جاۓ
عاشقی صبر سکھاتی ہے جنوں پوشوں کو
شیوہ عاشق کا نہیں زخم دکھاتا جاۓ
چکرِ باطل سے نکل جاۓ بھلا کیسے دل
آگ اتنی ہی بڑھے جتنی بجھاتا جاۓ
تشنگی میرے لبوں کی بھی مٹا دیتے تم
شان ساقی کی اسی میں ہے پلاتا جاۓ
اس سے عشیار گلہ کیسا اسے حق ٹھہرا
دل اسی کا ہے جسے چاہے بساتا جاۓ

0
10