سوچتا ہوں تو مجھے سخت گھٹن ہوتی ہے
کیا محبت بھی تمنائے بدن ہوتی ہے
بعد تیرے، ترے بیمار کی حالت یوں ہے
۔۔سانس لیتا ہے تو سینے میں جلن ہوتی ہے۔۔
اس سے رشتہ تو نہیں ہے کوئی میرا لیکن
ساتھ اوروں کے جو دیکھوں تو جلن ہوتی ہے
تونے چھوڑا ہی نہیں مجھ کو کہیں کا ظالم
اے محبت مجھے اب تجھ سے کڑھن ہوتی ہے
ایک کپ چائے سے مل جاتی ہے راحت مجھ کو
جب بھی کاظم مجھے محسوس تھکن ہوتی ہے
اب تخیل پہ کوئی اور ہی چھایا ہے مرے
اب کہاں مجھ سے میاں مشق سخن ہوتی ہے
ہیرو گیری کسی ہیرو کی نہیں چلتی ہے
زندگی فلم حقیقت کی وِلَن ہوتی ہے
کوئی مانے کہ نہ مانے ہے حقیقت کاظم
دوسرا روپ ہی ماں کا یہ بہن ہوتی ہے
کاظم شرازی

0
24