دنیا کو نیا کوئی تماشہ نہیں دینا
اے دوست مری جان کا صدقہ نہیں دینا
خوشبو کا سبب پوچھتے ہیں لوگ سو اس بار
ملنا تو مجھے ماتھے پہ بوسہ نہیں دینا
تم سارے خدو خال بناؤ سرِ قرطاس
محبوب کو لیکن کوئی چہرہ نہیں دینا
لمحوں میں چرا لوں گا تمہاری میں اداسی
تم نے اگر اس میں مجھے حصہ نہیں دینا
ایسا کرو اس بار مجھے پیشگی مل لو
پھر سالگرہ پر مجھے تحفہ نہیں دینا
اک سچے طلب گار کو دینا یہ امانت
تا عمر زرِ حسن پہ پہرہ نہیں دینا
چاہوں تو حوالے ابھی کر دوں میں قضا کے
اے زندگی میں نے ترا قرضہ نہیں دینا
مرضی ہے تری ویسے خداوندِ خلائق
کم ظرف کو تو پیار کا جذبہ نہیں دینا
کہنے کو مری بہن وہ ہوتا ہے مجازی
بندے کو خدا کا کبھی درجہ نہیں دینا
ہشیار کہ چھو لے گی مری شاعری دل کو
یہ تازہ ہوا ہے ، اسے رستہ نہیں دینا
تہمت ہی لگانی ہے قمر تجھ پہ ہوس کی
دنیا نے تجھے زُہد کا تمغہ نہیں دینا
قمرآسیؔ

0