کچھ زخم دعا بن جاتے ہیں
کچھ زخم صدا بن جاتے ہیں
کچھ زخم اندھیروں کے باسی
کچھ زخم قبا بن جاتے ہیں
کچھ زخم چھپاتے ہیں خود سے
کچھ زخم ادا بن جاتے ہیں
کچھ زخم سکوں کا باعث ہیں
کچھ زخم جفا بن جاتے ہیں
کچھ زخم چٹانوں سے بھاری
کچھ زخم ہوا بن جاتے ہیں
کچھ زخم اصل میں ہوتے ہیں
کچھ زخم دغا بن جاتے ہیں
کچھ زخم محو جاتے ہیں
کچھ زخم ردا بن جاتے ہیں
بے نام و نشاں کچھ زخم کریں
کچھ زخم پتا بن جاتے ہیں

0
3