کچھ زخم صدا بن جاتے ہیں
کچھ زخم دعا بن جاتے ہیں
جو خود سے چھپائے جاتے ہیں
وہ زخم ادا بن جاتے ہیں
ہر زخم سزا کب ہوتا ہے
کچھ زخم عطا بن جاتے ہیں
جو زخم بدن کو چُور کریں
وہ زخم قبا بن جاتے ہیں
جو دل پہ چٹانوں جیسے ہوں
اک روز ہوا بن جاتے ہیں
کچھ زخم وفا کی قیمت ہیں
کچھ زخم جفا بن جاتے ہیں
جو آنکھ سے بہنے سے قاصر
وہ زخم نوا بن جاتے ہیں
کچھ زخم مٹائے جاتے ہیں
کچھ زخم بقا بن جاتے ہیں
بے نام رکھو جتنا ان کو
کچھ زخم پتا بن جاتے ہیں
شاہدؔ یہ عجب دستورِ دل
کچھ زخم خدا بن جاتے ہیں

0
34