اس عہدِ نارسا میں ہے کارِ وفا عبث
جینے کی دوڑ دھوپ میں مرنا ہوا عبث
بلوے خدا کے واسطے جنگیں بنامِ امن
خوفِ خدا نہیں ہے تو نامِ خدا عبث
ظلم و ستم کے واسطے پیدا ہوئے ہیں آپ
راز و نیاز کس لئے ناز و ادا عبث
دشمن کے ساتھ ہے کوئی عہدِ وفا اگر
چون و چراں  نہ کیجئے آہ و بکا عبث
مشکل میں گر نہ آ سکے چل کر ہمارے پاس
ہرگز اٹھائیے نہیں دستِ دعا عبث

0
9