اڑا ہے رنگ مرے گلستان کا کیسے
محاسبہ ہو مرے باغبان کا کیسے
سراب سے تھی شناسائی پھر بھی رک نہ سکے
فریب ٹوٹتا حسنِ  گمان کا کیسے
سمجھ رہے ہیں تری چال ، معترف بھی ہیں
بحال ربط ہو  ذہن و زبان کا کیسے
ہم الٹی سمت میں چل کر قریب کیسے ہوئے
کھلے یہ عقدہ زمان و مکان کا کیسے
جو میری راہ پہ کانٹے بچھائے جاتا ہے
خطاب اس کو ملا مہربان کا کیسے
قمار خانۂ ہستی میں خود گئے لٹنے
کریں گلہ تو بھلا آسمان کا کیسے

0
6