تم اپنے دل سے تھوڑی سی رعایت کیوں نہیں کرتے
کسی دن اپنے ہی گھر میں سکونت کیوں نہیں کرتے
وہ آئینہ تمہیں ہر روز تم سے کم دکھاتا ہے
کبھی اس آئنے سے بھی بغاوت کیوں نہیں کرتے
تمہارے گھر میں سب چیزیں جگہ پر ہیں سوائے دل
ذرا اس ابتری کی تم وضاحت کیوں نہیں کرتے
وہی دیوار برسوں سے تمہارے بیچ قائم ہے
کبھی اک اینٹ سرکانے کی ہمت کیوں نہیں کرتے
تمہارے خواب میں اب بھی وہی رستہ نکلتا ہے
کبھی اس خواب سے ملنے کی زحمت کیوں نہیں کرتے
وہ اپنے بعد بھی گھر میں کہیں موجود رہتا ہے
کبھی اس وہم سے تھوڑی شرارت کیوں نہیں کرتے
محبت میں کئی باتوں کا پردہ بھی ضروری ہے
تو کچھ باتوں کی آخر تم حفاظت کیوں نہیں کرتے

0
5