مل کر بھی جب دل نہ ملیں تو لمبی چوڑی باتیں کیوں
جب ہم رنگ ہے خون تو اتنی اہم ہوئی ہیں ذاتیں کیوں
دن ان کی یادوں میں گزرے حسن کا جلوہ آنکھوں میں
خواب میں وہ آ جائیں تو ہم جاگ کے کاٹیں راتیں کیوں
عشق جنوں ہے پھر بھی غالب کیوں رہتا ہے جیون بھر
عقل نے جب بھی دھاوا بولا دل سے کھائیں ماتیں کیوں
لاکھ چھپاؤ عشق محبّت ظاہر ہو کر رہتے ہیں
کہتے ہو چاہا ہی نہیں پھر اشکوں کی برساتیں کیوں
صبر کا پھل شیریں جو نہیں تو کیسے آئیں روز فقیر
گھنٹوں بیٹھ کے در پر پھر وہ سن لیں یوں صلوٰ تیں کیوں
کچھ تو اس میں خاص بھی ہو گا اس کی اتنی قیمت ہے
سونے سے ارزاں ہوتی ہیں ورنہ ساری دھاتیں کیوں
سو چو حسد کی آگ میں سارے حاسد کیونکر جلتے ہیں
اور ہمارے ہر گھر میں ہیں شادی کی باراتیں کیوں
یہ قانون ہوا ہے رائج طارق نئے زمانے میں
حسن کا جلوہ عاقل دیکھیں مجنوں کھائیں لاتیں کیوں

0
8