| میں تو پتھر ہوں، پگھلنا نہیں آتا ہے مجھے |
| وقت کے سانچے میں ڈھلنا نہیں آتا ہے مجھے |
| میں نے دریا کو کئی رنگ بدلتے دیکھا |
| اپنا یہ رنگ بدلنا نہیں آتا ہے مجھے |
| ایک آواز بہت دیر سے اندر ہے مرے |
| اس کو لفظوں میں اگلنا نہیں آتا ہے مجھے |
| اپنی تصویر سے باہر تو کئی بار گیا |
| اپنے چہرے سے نکلنا نہیں آتا ہے مجھے |
| تیری یادوں سے کنارہ بھی کیا ہے لیکن |
| اپنے ہی دل کو بدلنا نہیں آتا ہے مجھے |
| میں نے ہر زخم کو ہنس ہنس کے چھپایا لیکن |
| تو نہیں ہے تو بہلنا نہیں آتا ہے مجھے |
| ایک خواہش ہے جو برسوں سے مرے ساتھ رہی |
| اس کو پا کر بھی سنبھلنا نہیں آتا ہے مجھے |
| میں نے دیوار میں در ڈھونڈ لیے ہیں لیکن |
| کھلے رستے پہ بھی چلنا نہیں آتا ہے مجھے |
معلومات