فن کی معراج پا گیا نصرت
ہر زمانے پہ چھا گیا نصرت
اس کے آبا عظیم گائک تھے
اپنا سکہ جما گیا نصرت
وہ بنائی ہے اس نے موسیقی
دل میں سب کے سما گیا نصرت
ہر زمانہ ہے معترف اس کا
ہے امر جو بھی گا گیا نصرت
فیض استاد کا لقب پا کر
فن کا رستہ دکھا گیا نصرت

0
1
10
یہ نظم برصغیر کے عظیم فنکار نصرت فتح علی خان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔ ان کا فن محض موسیقی تک محدود نہیں بلکہ محبت، روحانیت اور ثقافتی ورثے کی ایسی روشن علامت ہے جس نے زبان، نسل اور سرحدوں کی تمام حدیں عبور کر کے کروڑوں دلوں کو مسخر کیا۔ میری خواہش رہی ہے کہ اس نظم کے ذریعے ان کی فنی عظمت، ان کے خاندانی ورثے اور موسیقی کے میدان میں ان کی بے مثال خدمات کو منظوم خراجِ تحسین پیش کروں۔
اگر یہ نظم قارئین کے دلوں میں نصرت فتح علی خان کی لازوال شخصیت اور ان کے فن کی عظمت کا احساس مزید گہرا کر سکے تو میں اپنی اس ادبی کاوش کو کامیاب سمجھوں گا۔
— فیض رسول فیض

0