ہر خوشبو کے ہر جھونکے کی پہلی چاہ مدینہ ہے
عود و عبیر و مشکِ ختن کی بوسہ گاہ مدینہ ہے
لوگو! جنت کی خواہش میں نگری نگری مت بھٹکو
باغِ ارم لے جانے والی واحد راہ مدینہ ہے
قدموں سے لپٹی پڑتی ہیں خوشیاں چاروں جانب سے
نوری فرشتوں کے جھرمٹ میں پیشِ نگاہ مدینہ ہے
شہرِ معطر کا ہر منظر آنکھوں سے ہے وابستہ
کاسۂ چشم کے سب ارمانوں سے آگاہ مدینہ ہے
روئے زمیں کی رونق ہے مشروط اسی کی رونق سے
ارضِ عرب کی خاطر وجہِ عزت و جاہ مدینہ ہے
سارے ستارے روشنیوں کی بھیک یہیں سے پاتے ہیں
قاسمِ رزقِ نور برائے مہر و ماہ مدینہ ہے
حبِ محمد کی تابانی ہے اشفاق کے سینے میں
مسکن ہے یہ شاہِ امم کا دل والله مدینہ ہے

0
28