میں زندگی کو کس کے غم میں مٹا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ہے کون سی کمی جو مجھ کو ستا رہی ہے
کس درد کی تپش میں خود کو جلا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ٹوٹا ہوا ہے دل بھی نم ہیں مری نگاہیں
کیوں ضبط کے یہ آنسو دل پر گرا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
کیوں عمر بھر اندھیروں نے مجھ کو گھیر رکھا
کس بات کا یہ شکوہ لب پر سجا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
رہتا ہوں غم کے گھر میں ہے کس کی مہربانی
کس کے ستم کو ہنس کر اب تک نبھا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
قسمت میں میری کس نے رسوائیاں لکھی ہیں
کس کے ستم کی قیمت اب تک چکا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ماں تیری یاد دل سے اک پل جدا نہیں ہے
روحِ حزیں کے زخموں کو بس چھپا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
تو میری زندگی کا حاصل ہے اے مری ماں
ہر دم تجھے دعاؤں میں مانگتا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں

0
1