دیتے ہیں ندا سے پہلے وہ کیا جود و کرم سرکار کے ہیں
احسان خدائی پر اُن کے کیا فیض سخی مختار کے ہیں
یہ بابِ رسالت کے زینے الطافِ خدا کے مرکز ہیں
دو جگ میں جس کی دھوم مچی کیا لطف و کرم دربار کے ہیں
گر واصلِ باللہ ہونا ہے اور نامہ اپنا دھونا ہے
بن منگتے در پر جاتے ہیں بڑے دان حسیں دلدار کے ہیں
انوار کے باراں طیبہ میں ہر آن گھٹائے رحمت سے
ہیں اوجِ فلک کی وہ زینت بڑے رتبے رب کے یار کے ہیں
فیضان سے اس میں رحمت ہے ہر حال میں جس جا برکت ہے
ہیں رنگ سہانے گلشن میں گھنے سائے اس گلزار کے ہیں
جو خلق خدا میں ہیں تنہا وہ نبیوں کی صف میں ہیں یکتا
دیں جانِ جہاں ہستی کو اماں کیا مبدا ہر انوار کے ہیں
دن رات مدینے کے نوری ہر حاجت جس جا ہے پوری
محمود فضائل اطہر کے بجیں ڈنکے جس کردار کے ہیں

0
3
13

یہ نعت شریف اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ حضور ﷺ کی ذات سراپا **جود و کرم، رحمت اور فیضان** ہے۔ آپ ﷺ کا دربار وہ مرکز ہے جہاں مانگنے سے پہلے ہی عطا ملتی ہے، اور جو بھی سچے دل سے وابستہ ہو وہ **روحانی پاکیزگی، قربِ الٰہی اور برکت** حاصل کرتا ہے۔

طیبہ کی فضا کو رحمت و نور کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے شاعر بتاتا ہے کہ آپ ﷺ **تمام مخلوق میں یکتا، اللہ کے محبوب، اور دونوں جہانوں کے لیے باعثِ امن و سکون** ہیں۔

آخر میں یہ نتیجہ پیش کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے فضائل اور کردار ایسے بلند ہیں کہ ان کی **شہرت اور عظمت ہر زمانے میں نمایاں** ہے، اور انہی کی نسبت انسان کی ہر حاجت پوری ہونے کا ذریعہ بنتی ہے۔

0
Subhan Allah 🌹

0
ماشاءاللہ بہت خوب

0