| دیتے ہیں ندا سے پہلے وہ کیا جود و کرم سرکار کے ہیں |
| احسان خدائی پر اُن کے کیا فیض سخی مختار کے ہیں |
| یہ بابِ رسالت کے زینے الطافِ خدا کے مرکز ہیں |
| دو جگ میں جس کی دھوم مچی کیا لطف و کرم دربار کے ہیں |
| گر واصلِ باللہ ہونا ہے اور نامہ اپنا دھونا ہے |
| بن منگتے در پر جاتے ہیں بڑے دان حسیں دلدار کے ہیں |
| انوار کے باراں طیبہ میں ہر آن گھٹائے رحمت سے |
| ہیں اوجِ فلک کی وہ زینت بڑے رتبے رب کے یار کے ہیں |
| فیضان سے اس میں رحمت ہے ہر حال میں جس جا برکت ہے |
| ہیں رنگ سہانے گلشن میں گھنے سائے اس گلزار کے ہیں |
| جو خلق خدا میں ہیں تنہا وہ نبیوں کی صف میں ہیں یکتا |
| دیں جانِ جہاں ہستی کو اماں کیا مبدا ہر انوار کے ہیں |
| دن رات مدینے کے نوری ہر حاجت جس جا ہے پوری |
| محمود فضائل اطہر کے بجیں ڈنکے جس کردار کے ہیں |
معلومات