| یکتا خلق میں اُن کو مولا نے خود بنایا |
| کوئی سنا نہ اُن سا کوئی کہیں نہ پایا |
| مخلوقِ کبریا میں سایہ نہیں نبی کا |
| خلقِ خدا پہ لیکن رکھا نبی نے سایہ |
| نامِ حبیب سرور پونجی گراں ہے یارو |
| دولت ہے یادِ جاناں ذکرِ نبی ہے مایہ |
| ختمِ رسل ہیں آقا مختارِ کل حبیبی |
| قرآں میں کبریا نے قاری کو یہ بتایا |
| بھاگی دہر سے ظلمت سرکار کے قدم سے |
| نغمہ حبیبِ رب کا کونین نے سنایا |
| اُن سا حسین کوئی دیکھا گیا نہ ہو گا |
| خالق سے اور دلبر سرکار سا نہ آیا |
| نامِ نبی کو لکھا عرشِ عُلیٰ پہ رب نے |
| معراج رات رب سے آیا اُنہیں بلاوا |
| ثانی حبیب کوئی پیدا کیا نہ رب نے |
| رتبہ خدا نے اُن کا کونین میں بڑھایا |
| قصرِ دنیٰ میں زینت تھی آشکار ساری |
| محمود حسنِ جاں نے عرشِ الہ سجایا |
معلومات