| غفلتوں سے بر سرِ پیکار ہونا چاہیے |
| عاشقی میں بھی کوئی معیار ہونا چاہیے |
| دل اگر سچ بولنے کی تاب رکھتا ہے تو پھر |
| آئنے کو بھی ذرا تیار ہونا چاہیے |
| عشق میں کچھ فاصلوں کا گو تقاضا ہے مگر |
| کیوں کسی کو وصل سے انکار ہونا چاہیے |
| کب ہے منزل کی تمنّا ہی سفر کی انتہا |
| راستے کا بھی کوئی کردار ہونا چاہیے |
| جس محبّت میں انا بھی ہو کہاں وہ عشق ہو |
| پر سراپا عشق میں ایثار ہونا چاہیے |
| روشنی باہر سے مانگے کیوں کوئی اہلِ نظر |
| دل کے اندر شعلۂ بیدار ہونا چاہیے |
| زندگی ہر موڑ پر دیتی ہے خود اپنا سبق |
| آدمی کو ہر گھڑی ہشیار ہونا چاہیے |
| جو کسی کے درد کو اپنا سمجھ کر رو سکے |
| حق ہے اس کا بھی کوئی دلدار ہونا چاہیے |
| رازِ ہستی کھل نہیں سکتا فقط کہنے سے یار |
| سر کو بھی تو عشق میں سرشار ہونا چاہیے |
| طارق اپنے دل کی دنیا کو سنواریں اس طرح |
| ہر نفس ہی عشق کا اظہار ہونا چاہیے |
معلومات