یادِ نبی سے سینہ گلشن بنا رہے ہیں
گو ہجر میں نبی کے آنسو بہا رہے ہیں
گلی ہے مصطفی کی میرے خیال میں اب
چوکھٹ پہ دلربا کی خوشیاں منا رہے ہیں
سلطان میرے آقا کیا خوب دان اُن کے
جو نعمتیں خدا کی سب کو دلا رہے ہیں
دربارِ مصطفیٰ میں لے آئے نامہ اپنا
لیکن حیا سے اپنے منہ کو چھپا رہے ہیں
مختار دو سریٰ ہی پردے رکھیں گے اِن کے
اُن پر درودوں کے جو گجرے بنا رہے ہیں
پلے میں کچھ نہیں ہے عشقِ حبیب لیکن
نامِ نبی سے دل کو گلشن بنا رہے ہیں
محمود یادِ دلبر کندن بنائے مٹی
دیکھو غلامِ سرور فردوس جا رہے ہیں

0