| دل کو مِثْلِ آئِینہ واللہ بنا لیتا ہے وہ |
| مسکراہٹ سے جہاں کے غم چھپا لیتا ہے وہ |
| مَن کی دنیا رکھتا ہے پاکیزہ صوفی اس طرح |
| ذِکْرِ حَق سے ہر گھڑی مَن کو سجا لیتا ہے وہ |
| نہ کسی سے ہے شکایت، نہ عداوت دل میں ہے |
| جذبوں کو اَخلاق کی دولت بنا لیتا ہے وہ |
| نَفْس کی آتش بجھاتا ہے وہ فِکْرِ قَبْر سے |
| اپنے اندر کا اندھیرا بھی بجھا لیتا ہے وہ |
| سیکھ لے ان سے ہنر دل کی طہارت کا عتیق |
| صوفی کی صحبت میں رہ کندن بنا دیتا ہے وہ |
معلومات