| اے نوجوان ملت تیرے حوصلوں کو سلام ہو |
| انقلاب ہو برپا ایسے تیرے ولولوں کو پیام ہو |
| مت بھول کبھی جو ملی عزت و شرافت تجھے |
| بیدار کر غیرت, سامنے کسی کے نہ جبیں خم ہو |
| نہ ڈر فنا ہونے سے, ہے فطرت خاک کے انسان کی |
| بس جانا ہے یادوں میں دائمی, ایسا تیرا عزم ہو |
| کرنا ہے حاصل کھویا ہوا بلند و بالا وقار پھر سے |
| امن وانصاف کو پیدا کرنے کی امنگ بدرجہ اتم ہو |
| تدبیر و حکمت کو شیوہ بنا تو کچھ بات بن جائے |
| سر کر سارے میدان, کسی مہم میں نہ ناکام ہو |
| ہیں معلوم سبب سارے ذلت و پستی کے ناصر |
| عام جہاں میں دوبارہ در در بیداری کا پیغام ہو |
معلومات