| دل کے صحرا میں کہیں ابرِ بہاراں رہ گیا |
| تجھ کو پا کر یوں لگا کوئی نہ ارماں رہ گیا |
| عشق نے چھینا ہے مجھ سے یوں مرا نام و نشاں |
| میں نہیں باقی رہا بس تیرا فیضاں رہ گیا |
| ہم نے جس کو زندگی سمجھا وہ اک پردہ تھا بس |
| پردہ اٹھتے ہی کوئی کب راز پنہاں رہ گیا |
| خود کو کھونے کا ہنر عشقِ خدا نے دے دیا |
| میں فنا ہوتا گیا اور وہ نمایاں رہ گیا |
| تیری آنکھوں میں جو دیکھا تھا کبھی اپنا وجود |
| آج تک منظر وہی دل میں غزل خواں رہ گیا |
| شہر بھر میں روشنی باطن مگر تھا بے چراغ |
| ایک دل تھا جس میں تیرا نورِ تاباں رہ گیا |
| ہم نے دنیا سے تعلق رکھنا چاہا تھا مگر |
| ربط دل میں تیری چاہت سے درخشاں رہ گیا |
| وقت کی گردش نے دل کے سب مٹا ڈالے نقوش |
| ایک چہرہ آج تک یادوں میں تاباں رہ گیا |
| مجھ کو تیرے ہجر نے خود سے ملایا اس طرح |
| درد کم ہوتا گیا مرہم کا ساماں رہ گیا |
| عشق جب حد سے گزر جائے تو سب پردے اٹھیں |
| میں تو بس مٹتا گیا اک تُو نمایاں رہ گیا |
| نفرتوں کے شہر سے الفت نکالی یوں گئی |
| آدمی تو چھوڑ ای اے کب کوئی انساں رہ گیا |
| طارق اس رازِ محبت کو سمجھنا ہو اگر |
| خود سے باہر آ کے دیکھو خالی میداں رہ گیا |
معلومات