| یہ اپنے آپ کو اشعار جو سنانا ہے |
| فقط یہ تم کو سنانے کو گُنگُنانا ہے |
| ہم اپنے آپ سے اشعار کہتے ہیں اکثر |
| قَصَد ہے، بات ہر اِک آپ کو بتانا ہے |
| جو آپ ہم سے مخاطب، ہمیں میں ہوتے ہیں |
| کلام کرنے کے فن، کیا عجب سِکھانا ہے |
| ہمیں جو غیب کی آوازیں دل میں آتی ہیں |
| کسی کتاب میں لکھ کر اِسے بچانا ہے |
| دیارِ یار ہے دل، جو ہے ذات کا مرکز |
| کلیمِ دل ہے ذکیؔ، جس کا دل ٹھکانہ ہے |
معلومات