حریصِ گل ہے نہ مرہونِ رنگِ منظر ہے
خود اپنے سوز سے روشن مرا مقدر ہے
اب اعتماد وفا لےکے ہم کہاں جائیں
جس آستین کو دیکھو اسی میں خنجر ہے
شکار ہوں میں غفلت شعار لوگوں کا
یہ دکھ تو میرے گزشتہ دکھوں سے بڑھ کر ہے
عدو سے پہلے ذرا اپنے روبرو ٹھہرو
بلند حوصلہ ہر حال میں سکندر ہے
ریا کے شہر سے باہر رہو ذرا شاعر
خیال زندہ رہے تو بشر قلندر ہے

0
3