آنکھ جب انتظار کھوتی ہے
زندگی اعتبار کھوتی ہے
ایک تصویر جو نظر میں رہے
رفتہ رفتہ نکھار کھوتی ہے
نیند آنکھوں سے روٹھ جائے تو
رات اپنا وقار کھوتی ہے
کوئی خواہش حصول پا لے تو
اپنا آدھا خمار کھوتی ہے
عمر جب یاد بننے لگتی ہے
زندگی اختیار کھوتی ہے
آئینہ روز سچ دکھاتا ہے
آنکھ اپنا غبار کھوتی ہے

0
4