| کیسے بھولوں میں دور وہ تب کا |
| کیا زمانہ تھا میرے مکتب کا |
| راہ دکھلاتا جو ستارہ ہے |
| ہو گیا گرد میں نہاں کب کا |
| تب اشاروں میں بات ہوتی تھی |
| اب تو لازم ہے کھولنا لب کا |
| اہلِ خانہ ہوں، دوست یا دشمن |
| مجھ پہ حق ہے مرے سوا سب کا |
| صبحِ روشن ضرور آئے گی |
| فاصلہ ہے بس ایک ہی شب کا |
| پا ہی لوں گا کہیں سکوں میں بھی |
| ہے کشادہ بہت جہاں رب کا |
معلومات