| دھومیں حبیب کی آفاقِ دہر میں ہیں |
| یہ نعرے ہر گھڑی ہیں شام و سحر میں ہیں |
| الطافِ مصطفیٰ سے کونین کی ہے جاں |
| اعمال و حال سب کے اُن کی نظر میں ہیں |
| انعامِ دلربا ہیں دونوں جہان پر |
| جنت کریں عطا جو آقا کے گھر میں ہیں |
| کتنے کریم داتا کیسے ہیں دلربا |
| جو چاہتیں ہیں اُن کی سوزِ جگر میں ہیں |
| سالارِ انبیا ہیں رب کے لبیب یہ |
| جن کے غلام دیتے جانیں نذر میں ہیں |
| ہیں عام حشر میں کَل اُن کی شفاعتیں |
| گو عیب جانتے وہ بندے بشر میں ہیں |
| کعبہ بنا ہے قبلہ صدقے رسول کے |
| اسباق ڈھونڈیں وہ جو شقِ قمر میں ہیں |
| ہیں قریہ قریہ جاری میلادِ مصطفیٰ |
| یہ شہر، شہر میں ہیں قریہ، نگر، میں ہیں |
| محمود اُن سے زینت دونوں جہان میں |
| جن کے حسیں ترانے ماہ و مہر میں ہیں |
معلومات