نہ چھوڑے ہاتھ سے کوئی کبھی اپنی متانت بھی
ضروری ہے مگر لہجے میں تھوڑی سی حلاوت بھی
بظاہر تو بہت آباد ہے یہ شہرِ ہنگامہ
مگر انسان ڈھونڈے ہے کہیں گوشہء عجلت بھی
سجا رکھا ہے چہرے پر عجب جھوٹا تبسم سا
چھپا رکھی ہے سینے میں کسی نے اپنی وحشت بھی
جو نیکی کر کے جتلاتے ہیں اکثر اپنی عظمت کو
نہیں رہتی پھر ان کے کام میں باقی فضیلت بھی
عدالت صرف کمروں میں نہیں ہوتی مرے ہمدم
لگاتے ہیں کبھی باطن بھی تو اپنی عدالت بھی
بنایا ہے اگر خود کو پرکھنے کا کوئی معیار
نظر آئے گی پھر اپنی تمھیں کوئی حماقت بھی
زمانے بھر کی باتوں پر وہ جو تالی بجاتے ہیں
وہی کرتے ہیں پیچھے سے ہمیشہ ہی ملامت بھی

0
6