| ہم کو چکر کمال دیتے ہیں |
| لوگ وعدوں پہ ٹال دیتے ہیں |
| گر ضرورت ہو اپنے یاروں کو |
| ہم کلیجہ نکال دیتے ہیں |
| بے وفائی کا ذکر چھڑ جائے |
| لوگ تیری مثال دیتے ہیں |
| جن کا چہرہ حسین ہوتا ہے |
| وہی اکثر وبال دیتے ہیں |
| اپنی چاہت کے سب حوالوں کو |
| تیرے قدموں میں ڈال دیتے ہیں |
| تیری یادوں میں ڈوب کر قرنی |
| خود کو خود سے نکال دیتے ہیں |
| محمد اویس قرنی |
معلومات