سہہ رہا ہوں قلب پر سب کی ملامت، کیا کروں؟
ڈھائی ہے اس زندگی نے بھی قیامت، کیا کروں؟
​نقش ہے اب تک جو میرے ذہن و جاں پر ایک لفظ
کس طرح اب میں بتاؤں وہ حقیقت، کیا کروں؟
​خواب ہوں میں یا کوئی روشن حقیقت نینؔ میں
کھو گئی ہے اب تو لفظوں کی حلاوت، کیا کروں؟
​ہر نئے اک زخم پر میں مسکرا کر آ گیا
دے گیا ہے درد بھی مجھ کو متانت، کیا کروں؟
​ساتھ میرا چھوڑ کر جب سائے بھی رخصت ہوئے
چھن گئی ہے اب تو جینے کی سہولت، کیا کروں؟
​ٹوٹا ہوں اندر سے لیکن، ہنستا ہوں میں سامنے
کر رہا ہوں خود سے میں کیسی بغاوت، کیا کروں؟
​ہوں مسافر نینؔ اب ان ہی اجاڑ راہوں کا
مر گئی ہے اب تو رستوں میں رفاقت، کیا کروں؟

0
3