راہِ حق میں قدم یہ اٹھاؤ کبھی
دل سے نفرت کے کانٹے ہٹا ؤ کبھی
ذکرِ مولیٰ سے کر روشنی دل میں تو
دیپ سینے میں یہ بھی جلا ؤ کبھی
درد مندوں کے آنسو بھی پونچھا کرو
پیار کے پھول سب کو تھما ؤ کبھی
جھوٹ، غیبت، حسد سے بچا کر زباں
اپنے کردار کو بھی سجا ؤ کبھی
رب کی رحمت پہ رکھنا بھروسا سدا
وقتِ مشکل نہ ہمت گنوا ؤ کبھی
ڈھونڈتے ہو جو رب کی رضا اے عتیق
نفس کی ہر طلب کو مٹا ؤ کبھی

0
9