| نجانے ہم اب کیا سے کیا کر چلے؟ |
| اسی دُزد کو ناخدا کر چلے |
| کوئی میرے ساقی سے جا کر کہے |
| مجھے تو وہ آخر پلا کر چلے |
| کوئی لالہ و گل چمن میں نہیں |
| ارے باغباں آپ کیا کر چلے؟ |
| عداوت کے روشن ہوئے سب چراغ |
| کوئی تو انھیں اب بجھا کر چلے |
| بسوئے حرم، چھوڑ کر مے کدہ |
| قدم سے قدم ہم ملا کر چلے |
| چمن میں یہ کیا حادثہ ہو گیا |
| بہاراں میں بلبل جدا کر چلے |
| رہی ہے کہاں اب وفا کی صفَت |
| زمانے میں ہم ہی وفا کر چلے |
| ہے تحسینؔ سے بس یہی اک سوال |
| "جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے؟" |
معلومات