نجانے ہم اب کیا سے کیا کر چلے؟
اسی دُزد کو ناخدا کر چلے
کوئی میرے ساقی سے جا کر کہے
مجھے تو وہ آخر پلا کر چلے
کوئی لالہ و گل چمن میں نہیں
ارے باغباں آپ کیا کر چلے؟
عداوت کے روشن ہوئے سب چراغ
کوئی تو انھیں اب بجھا کر چلے
بسوئے حرم، چھوڑ کر مے کدہ
قدم سے قدم ہم ملا کر چلے
چمن میں یہ کیا حادثہ ہو گیا
بہاراں میں بلبل جدا کر چلے
رہی ہے کہاں اب وفا کی صفَت
زمانے میں ہم ہی وفا کر چلے
ہے تحسینؔ سے بس یہی اک سوال
"جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے؟"

5