سب گھروں کی یہی کہانی ہے
باپ نوکر، ماں نوکرانی ہے
عشق؟ مجھ سے؟ کسی کو کیا ہو گا؟
یہ فقط تیری بد گمانی ہے
آ کے بیٹھو، سنو، مِرے قصّے
ان میں پُر شور سی روانی ہے
ایک تم ہی نہیں ہو جلدی میں
زیست اپنی بھی ناگہانی ہے
میں نہیں اس قدر بڑا شاعر
جتنی دنیا ہوئی دِوانی ہے

0
3