ہم سے نہ ہو سکی یہ جسارت، نہیں کہا
اس دل ربا کو طالبِ لذت نہیں کہا
ابدان کا ملن ہے فقط جسم کا سکوں
اس کو کبھی بھی روح کی راحت نہیں کہا
کہنے گیا کہ عشق میں لازم نہیں وصال
لیکن نہ جسم سے ملی فرصت، نہیں کہا
رکھتا ہے اپنے پاس بدلنے کا اک جواز
عادت کہا تھا مجھ کو، ضرورت نہیں کہا
کچھ اور ہی سواد ملا اس لعاب سے
ہم نے دہن کے آب کو شربت نہیں کہا
اس واسطے خراب ہے، بدنام ہے قمرؔ
اس نے کبھی ہوس کو محبت نہیں کہا
قمرآسیؔ

0
3