| اک خزاں کے جاتے ہی اک خزاں مقرر ہو |
| تھا ہماری قسمت میں امتحاں مقرر ہو |
| ریگزارِ ہستی میں خوف کے بگولے ہیں |
| الحذر مقرر ہو الاماں مقرر ہو |
| رات کٹتی جاتی ہے رات کٹ ہی جاتی ہے |
| آس کے بڑھانے کو یہ گماں مقرر ہو |
| قیمتی نگینوں سے خواب لٹتے جاتے ہیں |
| کوئی اس خزینے کا پاسباں مقرر ہو |
| آپ کی صلابت میں کچھ تو مصلحت ہوگی |
| ہم سے کند ذہنوں پر ترجماں مقرر ہو |
| گفتگو نہ چل پائی آپ نے جو فرمایا |
| لفظ خوبصورت ہوں پھر بیاں مقرر ہو |
معلومات