خود اپنے آپ سے ملنے کا سلسلہ رکھنا
یہ سرخروئی ہے زخموں کو بھی ہرا رکھنا
ہوا کے سامنے کب تک چراغ جلتے ہیں
سو اپنے خون میں جلنے کا حوصلہ رکھنا
گر اپنے خواب کو تعبیر دے نہیں سکتے
تو ایسے خواب سے کوئی نہ پھر گلہ رکھنا
یہ زندگی بھی عجب امتحان لیتی ہے
لگیں جو زخم تو سہنے کا حوصلہ رکھنا
کسی کے سامنے جھکنا اگر ضروری ہو
تو صرف حق کے لیے سر کو بھی جھکا رکھنا
جو راستے میں اندھیروں سے ڈر کے بیٹھ گیا
وہ کیسے پائے گا منزل ذرا پتہ رکھنا
زمانہ لاکھ بدل جائے اپنے رنگ مگر
تم اپنے دل کو محبت سے آشنا رکھنا
یہ وقت دیکھنا طارِق گزر ہی جائے گا
بس اپنے رب پہ بھروسا بنا سدا رکھنا

0
7