داتا ہیں سخی سرور ہر بات نرالی ہے
کب جھولی کبھی جائے اس در سے جو خالی ہے
سرکار سے کھاتے ہیں اور نازاں ہیں قسمت پر
اس بابِ سخا پر ہی کونین سوالی ہے
ہاں اُس کو لگے اچھا دروازہ یہ دلبر کا
کچھ سمجھے نہ وہ جنت جو دل سے بلالی ہے
دیں دید سخی ہادی ہو عید فقیروں کی
میں دیکھوں حسیں روضہ اور دیکھوں جو جالی ہے
ہے چہرہ بدر اُن کا والیل حسیں زلفیں
وہ حسن میں ہیں یکتا سیرت بھی معالی ہے
وہ روپ کے ساگر ہیں اور دان نرالے یوں
لولاک ملا سہرا اور فیض بھی عالی ہے
ہوں اُن سے حسیں جلوے کب ملتے ہیں ہستی میں
اس حسن کی دنیا میں ہر جلوہ جمالی ہے
دارین میں ہیں یہ ہی اک پیارے حبیب اللہ
جبریل سنو کہتے یہ حسن مثالی ہے
کب تھا نہ کبھی ہو گا دلدار نبی جیسا
تصویر ہے اُن کی جو خود جاں نے بنالی ہے
اس قبر میں یہ آقا اک مونسِ دلبر ہیں
تھی لاج جو لرزے میں آقا نے سنبھالی ہے
محمود سخی سلطاں تو ادنیٰ ہے ہستی میں
کر شکر تو مولا کا کس در پہ سوالی ہے

1
5
✦ خلاصہ (Summary)
وہ کلام بنیادی طور پر تین بڑے موضوعات پر مشتمل ہے:
سخاوتِ رسول ﷺ
➤ حضور ﷺ کو “داتا” کہا گیا، اور بتایا کہ کوئی ان کے در سے خالی نہیں جاتا۔
جمال و کمالِ نبوی ﷺ
➤ ظاہری حسن (چاند جیسا) اور باطنی حسن (اعلیٰ اخلاق) دونوں بے مثال ہیں۔
روحانی تعلق اور شفاعت
➤ دنیا و آخرت میں سب حضور ﷺ کے محتاج ہیں، اور قیامت میں بھی وہی شفیع ہوں گے۔
🔹 مجموعی پیغام:
محبتِ رسول ﷺ، عاجزی، اور اس بات کا یقین کہ انسان کی اصل کامیابی حضور ﷺ کے در سے وابستگی میں ہے۔

0