سر سبز تھوڑی دیر میں کھلیان ہو گیا
مایوس اپنے کھیت سے دہقان ہوگیا
کل رات مجھ کو سونے میں تاخیر ہوگئی
کل پھر سے ایک خواب کا نقصان ہو گیا
اک عمر جو سکھاتا رہا کافری ہمیں
اک آن میں وہ صاحبِ ایمان ہو گیا
سیمابی اس قدر ہے طبیعت میں موجزن
میں تک تغیرات سے حیران ہو گیا
روتی ہے نیند میری ان آنکھوں میں اشک اشک
جب سے تمہارے عکس کا اپمان ہو گیا
محبوس میری فکر ہوئی خال و خد کے بیچ
کلبوت میرے واسطے زندان ہو گیا
آسیؔ وہ حادثہ تھا ، کوئی واقعہ نہیں
جو شہر بھر میں ہے مری پہچان ہو گیا
قمرآسیؔ

0