دیواریں سنتی ہیں کیا دیوار سے پوچھو
گر سچ سننا ہے تو پھر اغیار سے پوچھو
میں بسمل ہوں کیسے سناؤں روداد اپنی
میں کیوں قتل ہوا یہ میرے یار سے پوچھو
ویسے تو سب بکتا ہے یہاں پہ فراوانی سے
روح بھی بکتی ہے کیا؟ یہ بازار سے پوچھو
سب انسانوں کو یکساں پیدا کیا رب نے
پھر یہ اعلیٰ ادنیٰ ہے کیا سرکار سے پوچھو
تم کیا جانو کیسے کٹتی ہے رات آنکھوں میں
تم قدرِ صحت کسی اک بیمار سے پوچھو
چڑھانے کو چڑھا تو دی ہے چادر تو نے
اُس کو کیا ملا ؟ یہ پیرِ دربار سے پوچھو
جانے کیوں لمحوں میں کٹتی ہیں صدیاں ساغر
ممکن ہو تو لمحوں کی رفتار سے پوچھو

0
16