غافل ہیں سب کسی کو کسی کی خبر نہیں
خلقِ خدا میں آج کوئی بے خطر نہیں
دشمن ہے مال و زر لیئے صف آرا ہوشیار
پہچان گر ہو زہر کی دشمن کا ڈر نہیں
پرنور جس کا دل ہے خدا کے ہی نور سے
مومن کا دل ہے رب کا مکاں جس میں شر نہیں
دنیا میں آئے سب کو ہی مرنا ہے ایک دن
دنیا سرائے خانہ ہے مومن کا گھر نہیں
مخلوق سے خدا کی جو الفت نہیں کرے
کیسے ہو اعتباؔر نہیں وہ بشر نہیں

17