| سجادؑ کی ہر سانس میں اک درد بسا ہے |
| نیزے پہ ردا دیکھ کے خوں روتا رہا ہے |
| بنتِ علیؑ کو مارو صدا سنتے ہی بیمار |
| کانٹوں بھری وہ راہ پہ مظلوم گرا ہے |
| پتھر تو کبھی اور بھی مارے گئے درے |
| عابد کا لہو شام کی گلیوں میں ملا ہے |
| چھوٹی سی یہ جو طوق ہے گردن میں بھی پیوست |
| کیلوں سے بھرا طوق یہ امت کا صلہ ہے |
| تپتی ہوئی زنجیروں میں لپٹی ہوئی ہے کھال |
| زخموں پہ گرم پانی کو ڈالا بھی گیا ہے |
| ظلم اتنے سہہ شہؑ کی بیٹی نے سفر میں |
| زندان میں اس بچی کا لاشہ بھی پڑا ہے |
| غازی کے جو کانوں سے نیزے کو گزارا |
| جب جاکے سر گھوڑے کی گردن سے بندھا ہے |
| غیرت کے خدا نے یہ عطا کردیا صائب |
| جاری ہے لہو آنکھوں سے رو روکے کہا ہے۔ |
معلومات