تھی جن سے امید و آس ہم کو
کیا سبھی نے اداس ہم کو
جو غیر بھولے تو غم نہیں ہے
نہ جانے اپنا شناس ہم کو
یہ اہل ایماں کا معرکہ تھا
جہاں کا دوجا یہ کربلا تھا
حسین والے جو ساتھ دیتے
یزیدیت کا یہ خاتمہ تھا
تمام دنیا ہے آنکھ مینچے
سبھی نے اپنے ہیں ہاتھ کھینچے
عرب ہیں بالکل ہی بھول بیٹھے
کسی نے کھولے نہیں دریچے
فقط مذمت ہی بھائی سب کو
ہے پیاری اپنی خدائی سب کو
یہ موقع اچھا تھا دشمنوں پر
تھی کرنی ملکر چڑھائی سب کو
مگر ہو بزدل بکے ہوئے ہو
ہاں راہ حق سے ہٹے ہوئے ہو
سبب یہی ہے ذلیل ہو تم
جو فرقہ فرقہ بٹے ہوئے ہو
سمجھ رہے ہو بڑی ہے طاقت
جو ساتھ اس کے کھڑی ہے طاقت
بلالے جتنے ہیں اتحادی
خدا سے کوئی بڑی ہے طاقت
ہماری ہی تم مثال دیکھو
قلیل تھے پر مجال دیکھو
خدا پہ کر کے یقین ہم نے
کیا ہے کیسا کمال دیکھو
خدا پہ لوگوں یقین رکھو
بس آگے اس کا ہی دین رکھو
کرو دعائیں کریم رب سے
نظر میں فتح مبین رکھو
ڈرو خدا سے مدد کوآؤ
جہاد کا اب علم اٹھاؤ
نشان باطل مٹے گا بالکل
ذرا سی ہمت اگر دکھاؤ

0
2