| اس سے دور بیٹھے جب، ساتھ کیا نہیں مانگا؟ |
| اب جو صلح کر لی تو مشورہ نہیں مانگا |
| پاسداری عفّت کی آپ کی مقدّم ہے |
| قرب ہم نے چاہا پر جا بجا نہیں مانگا |
| کس قدر ہے فرسودہ طور یہ عداوت کا |
| فاصلہ نہیں چھوڑا، رابطہ نہیں مانگا |
| دورِ خود پرستی میں اس نے کر دیا احساں |
| اور اس پہ حیرت ہے، کچھ صلہ نہیں مانگا |
| چھوٹ اس کو حاصل تھی جس کو چاہے چن لے وہ |
| مجھ کو مالا پہنا دی دوسرا نہیں مانگا |
| مصلحت کا مطلب کیا؟ سچ اگر بتاؤں تو |
| آپ ہی کو مانگا ہے، آپ سا نہیں مانگا |
| جو ہیں آپ، جیسے ہیں، ہے نصیب حسرتؔ کا |
| خوش جمال کیا کرنا، خوش ادا نہیں مانگا |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۲۶، ستمبر، ۲۰۲۶ |
معلومات