| اے قرار کیوں ہے تو گمشدہ |
| میری زندگی کی کتاب سے |
| دے سکوں کا لمحہ کوئی مجھے |
| یہ عذاب تو سر سے ٹال دے |
| میری وحشتوں کو نہ یوں بڑھا |
| اب مجھے تو اتنا بھی مت ستا |
| میرا دل نہ دم توڑ دے کہیں |
| ان جدائیوں کے عذاب سے |
| کب تلک پھروں ایسے در بدر |
| اپنی منزلوں کی تلاش میں |
| اب تو تھام لے ہاتھ یہ مرا |
| راہ کوئی اب تو نکال دے |
| میں رہوں یوں کب تک یہ غمزدہ |
| عشقِ ماضی کی یاد میں بھلا |
| میری پلکوں پر رکھ ستارے کچھ |
| میری مٹھیوں میں گلاب دے |
| تھک گیا بہت دل مرا کہ اب |
| میرے غمگیں دل کا یہ حال ہے |
| میں نہ گر پڑوں گھبرا کے کہیں |
| اس سفر کے خوف و زوال سے |
| اے قرار اے میرے گمشدہ |
| کس لیے کروں تجھ سے میں گلہ |
| ہے بے فیض ساگر یہ شکوہ بھی |
| زندگی جا چکی ہے ہاتھ سے |
معلومات