| چہرے فریب کاروں کے پہچانتے نہیں |
| ہم جانتے ہیں آپ جنہیں جانتے نہیں |
| جن کو خدا بنا کہ پرستش کئے ہیں سب |
| ہم ریگِ زیرِ پا سا بھی گردانتے نہیں |
| رستے کھلے ہیں کتنے ہماری شکست سے |
| بے سود ہم بھی ہار کہیں مانتے نہیں |
| وہ روشنی جو آنکھ کی بینائی چھین لے |
| اس تیرگی کی خاک، عبث چھانتے نہیں |
| تصویرِکائنات ہے آنکھوں کے سامنے |
| تجرید کا کمال ہے پہچانتے نہیں |
معلومات