کوئی کسی سے اتنا کہاں جلتا ہے
جتنا تو مجھ سے مری جاں جلتا ہے
آگ برابر کی لگی ہے دونوں جانب
میں یہاں جلتا ہوں تو وہاں جلتا ہے
یا خدا یہ کیا ماجرا ہے کہ محبت میں
پہلے زمیں جلتی ہے پھر آسماں جلتا ہے
آج تڑپ رہی ہیں کیوں لہریں سمندر کی
آج یہ کیوں کر بحرِ بے کراں جلتا ہے
نا جانے کس کرب میں ہو میرے واعظ
نا جانے کیوں یہ تیرا بیاں جلتا ہے
تم کتنے کونوں کو بچاؤ گے ساغر
آگ لگے تو پھر سارا مکاں جلتا ہے

0
12