| تم سے محبت کا ارادہ کر کے |
| پچھتا رہا ہوں خود کو آدھا کر کے |
| وہ پھر نہیں لوٹا ہمیشہ کی طرح |
| جب بھی گیا آنے کا وعدہ کر کے |
| آؤ کہ دنیا کو دکھا دیں ہم بھی |
| اک ساتھ جینے کا اعادہ کر کے |
| مطلب کی دنیا میں ہیں مطلبی لوگ |
| چل دیتے ہیں سب استفادہ کر کے |
| لو آج پھر سے تیرے در پہ ساقی |
| کچھ رند بیٹھے ترکِ بادہ کر کے |
| دکھ اوڑھ کر بیٹھے میں بزمِ جاں میں |
| ملبوسِ دل،تن کا لبادہ کر کے |
| ہر بار ہم نے منہ کی کھائی ساغر |
| تیری طلب حد سے زیادہ کر کے |
معلومات