موجِ جنوں کو، اپنے ہی اندر اٹھا لیا
"قطرہ اٹھا، اور اٹھ کے سمندر اٹھا لیا"
جب بارِ عشقِ یار، کسی سے، نہ اٹھ سکا
تو بارِ عشق، تنہا قلندر اٹھا لیا
قتلِ فسادِ دل کے لیئے، عشقِ یار نے
خنجر اٹھا لیا، کبھی نشتر اٹھا لیا
اِک علم کی ہے عقل، تو اِک عقلِ عشق ہے
تب علم آ کے، عشق کو، سر پر اٹھا لیا
جو کچھ بھی، زخم و رنج ملے، تیری راہ میں
دامن میں پھول عشق کے بھر کر اٹھا لیا
دُرویشِ کوئے یار، جو دیوانے سا لگا
لوگوں نے اُس کو دیکھ کے پتھر اٹھا لیا
عاشق سے اوپر اٹھ کے میں مجنوں بَنا ذکیؔ
کم تر کو ترک کر دیا، بہتر اٹھا لیا

0
2