| آنکھوں میں ایک عکس ہے اب تک بسا ہوا |
| پلکیں جھکیں تو کتنے ہی منظر بکھر گئے |
| خاموشیوں میں درد کی شدت عجیب تھی |
| لب کھل گئے تو آنکھوں سے آنسو گزر گئے |
| دل پر کسی کے ہجر کا ایسا ہوا اثر |
| جو زخم بھرنے والے تھے، وہ بھی ابھر گئے |
| © ساگر حیدر عباسی |
| آنکھوں میں ایک عکس ہے اب تک بسا ہوا |
| پلکیں جھکیں تو کتنے ہی منظر بکھر گئے |
| خاموشیوں میں درد کی شدت عجیب تھی |
| لب کھل گئے تو آنکھوں سے آنسو گزر گئے |
| دل پر کسی کے ہجر کا ایسا ہوا اثر |
| جو زخم بھرنے والے تھے، وہ بھی ابھر گئے |
| © ساگر حیدر عباسی |
معلومات