حسنِ جاں ربا کا خوف
ایک حشر ادا کا خوف
الفت آزما کا خوف
ہے یہی بلا کا خوف
زندگی کے جیسا ہے
بے خطا سزا کا خوف
قہر ہے قیامت ہے
دل میں اِبْتِلا کا خوف
گھٹ رہا ہے میرا دم
زندگی خدا کا خوف
بے مزا رکھے تاعمر
ہر گھڑی قضا کا خوف
مجھ کو رکھتا ہے خاموش
نالہ نارسا کا خوف
ان کی بزم سے روکے
عرضِ مدعا کا خوف
ابتدا سے ہے شاہدؔ
ہم کو انتہا کا خوف
اُس پہ مرتے ہی شاہدؔ
مر گیا قضا کو خوف

0
11